ماہنامہ انصاراللہ

ماہنامہ انصاراللہ

تنظیم سے متعلق مختلف امور اور ہدایات کو مجالس تک پہنچانے، اراکین کی تعلیم و تربیت اور آئندہ نسلوں کی اصلاح کے پیش نظر 1338ہش / 1959ء کی شوریٰ میں یہ فیصلہ ہوا کہ مجلس مرکزیہ ایک ماہوار رسالہ شائع کرے جس میں مجالس انصاراللہ سے متعلق پروگرام ، کارکردگی کی رپورٹسا ور ضروری ہدایات شامل ہوں۔ اس رسالہ میں انتظامی اور تربیتی امور کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ملفوظات نیز حضور کی عربی تحریروں کے تراجم بھی شائع کئے جائیں اور ہر مجلس کے لئے اس کی خریداری لازمی قرار دئی جائے چنانچہ اس فیصلہ کے بموجب ماہ نبوت 1339ہش / 1960ء سے ایک ماہانہ رسالہ کی اشاعت شروع کر دی گئی اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ کی تجویز کے مطابق اس کانام ” انصاراللہ” رکھا گیا۔ اس کی ادارت کے فرائض مسعود احمد صاحب دہلوی ایڈیٹر روزنامہ الفضل کے سپرد کئے گئے اور طابع و ناشر” انصاراللہ” چوہدری محمد ابراہیم صاحب مقرر ہوئے۔

اس ماہنامہ کی اغراض و مقاصد کا ذکر کسی قدر تفصیل سے پہلے شمارہ کے ایڈیٹوریل میں کیا گیا ہے اس لئے اس کا ایک اقتباس اس جگہ درج کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔:

” حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قوت قدسی اور جذب و کشش کے طفیل آپ کے صحابہ نے اسلامی تعلیم پر کما حقہ، عمل کرتے ہوئے نصرت دین اور راہ خدا میں فدائیت کا جو نمونہ دکھایا تھا اس روح اور جذبہ کو نئی نسلوں میں منتقل کرنے اور اسلام کو ان کی زندگیوں میں نافذ کرتے ہوئے ان میں بھی حق پر نثار ہونے کا ولولہ پیدا کرنے کے لئے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جماعت میں اطفال الاحمدیہ، ناصرات الاحمدیہ ، خدام الاحمدیہ ، انصاراللہ اور لجنہ اماء اللہ کی تنظیمیں قائم فرمائی ہیں چنانچہ اسی غرض کے ماتحت اب ماہنامہ انصاراللہ جس کا پہلا شمارہ قارئین کے ہاتھوں میں ہے جاری کیا گیا ہے، یہ مجلس انصاراللہ مرکزیہ کا ترجمان ہو گا، اس میں انشاء اللہ ہم التزام کے ساتھ امام الزماں سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایسے روح پرور ملفوظات اور پُر معارف تحریرات ، نظم و نثر عربی، فارسی و اُردو شائع کرنے کا اہتمام کریں گے کہ جو جذب و تاثیر کے شاہکار کی حیثیت رکھتی ہیں، جن کے بار بار کے مطالعہ سے دلوں کے زنگ دھل کر سب کثافتیں دُور ہو جاتی ہیں اور قلوب و اذہان کی ایسی تطہیر ہوتی ہے کہ انسانوں کے سینے اور دماغ آسمانی نور سے منور ہو جاتے ہیں اور وہ دنیا میں زندگی بسر کرتے ہوئے عالم بالا کی مخلوق نظر آنے لگتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ کے صحابہ کے حالات، ان کے قبول حق کے واقعات، قربانی و ایثار اور فدائیت کے نمونے اور ان کی ایمان افروز روایات بھی التزام کے ساتھ ہدیہئ ناظرین کی جائیں گی، تا ہمیں احساس ہو کہ ہم کیسے عظیم الشان اسلاف کی اولاد ہیں، ہمارا اصل ورثہ کیا ہے اور اسے بحفاظت تمام نسلوں کے اندر منتقل کرنے کے ضمن میں ہم پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ پھر تاریخ اسلام اور تاریخ احمدیت کے چیدہ چیدہ واقعات بھی قارئین کی خدمت میں پیش کئے جائیں گے تا ایمان و یقین اور خدمت اسلام کے عزم صمیم کو ایک نئی پختگی اور نیا استحکام حاصل ہو، اسی طرح اہل علم اور اہل قلم اصحاب کے بلند پایہ علمی و تربیتی مضامین سے ہر شمارہ کو مزین کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ الغرض ہماری پوری کوشش ہو گی کہ ماہنامہ ”انصاراللہ” کا ہر شمارہ روحانی نعمتوں کا ایک خوان یغما ثابت ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ”

اس رسالہ کو بڑی محنت، توجہ اور قابلیت کے ساتھ چلایا جا رہا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ جاذب نظر حصہ وہ ہوتا ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چیدہ چیدہ ملفوظات اور روح پرور تحریرات نظم و نثر کے منتخب حصے درج کئے جاتے ہیں، یوں تو حضور ؑ کی ساری تحریریں اور ملفوظات ہی وحی خفی کا رنگ اپنے اندر رکھتے ہیں اور دائمی انوار و برکات کی حامل ہیں اور ان میں اس قدر جذب و کشش ہے کہ کوئی قاری متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا لیکن ان میں سے بھی بعض حصے ایسے ہیں جو اپنے حسن وخوبی اور تاثیرات میں بے مثال ہیں۔ اس ماہنامہ میں جب ان نوادرات پر نگاہ پڑتی ہے تو نظر وہیں اٹک کر رہ جاتی ہے اور دل چاہتا ہے کہ بار بار ان کا مطالعہ کیا جائے اور ان کی ظاہری و باطنی لذتوں سے لطف اندوز ہوا جائے اس کے علاوہ دوسرے مضامین بھی علمی اور تربیتی لحاظ سے نہایت عمدہ اور مفید ہوتے ہیں۔

پہلے سال کے شماروں پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بڑے ذی علم اور قابل افراد نے اپنے رشحات قلم سے اس رسالہ کو مزیّن کیا ہے۔ ان میں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ، حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ، چوہدری ظفر اللہ خان صاحب، مولانا جلال الدین صاحب شمس سابق مبلغ بلاد عربیہ، مولانا ابو العطاء صاحب ایڈیٹر الفرقان ، شیخ محمدا سمعیل صاحب پانی پتی مرحوم اور شیخ عبدالقادر صاحب محقق خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ رسالہ کی انہی خوبیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ نے مجلس کے سالانہ اجتماع منعقدہ 1341ھش / 1962ء کے موقعہ پر اپنے افتتاحیہ خطاب میں فرمایا:

” میں اس جگہ رسالہ ” انصاراللہ” کے متعلق بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ یہ رسالہ خدا کے فضل سے بڑی قابلیت کے ساتھ لکھا جاتا اور ترتیب دیا جاتا ہے اور اس کے اکثر مضامین بہت دلچسپ اور دماغ میں جلا پیدا کرنے اور روح کو روشنی عطا کرنے میں بڑا اثر رکھتے ہیں۔ پس انصاراللہ کو چاہئے کہ اس رسالہ کو ہر جہت سے ترقی دینے کی کوشش کریں۔ اس کی اشاعت کا حلقہ وسیع کریں اور اس کے لئے مختلف علمی موضوع پر اچھے اچھے مضامین لکھ کر بھجوائیں تا کہ اس کی افادیت میں ترقی ہو اور جماعت میں اس کے متلق دلچسپی بڑھتی چلی جائے۔”

رسالہ کی ادارت کے فرائض ایک لمبے عرصہ تک مسعود احمد صاحب دہلوی نہایت قابلیت، محنت اور توجہ سے ادا کرتے رہے، جب روزنامہ الفضل کی ادارت بھی ان کے سپرد ہو گئی تو جنوری 1976ء سے غلام باری سیف صاحب پروفیسر جامعہ احمدیہ اس کے ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ اپریل 1977ء کو اس رسالہ کی ادارت سیّد عبدالحیئ شاہ صاحب کے سپرد ہوئی۔

مرکز میں اجلاسات ناظمین کا باقاعدہ انعقادبانی مجلس انصاراللہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ نے فرمایا کہ:

” ہماری جماعت کے سپرد یہ کام کیا گیا ہے کہ ہم نے تمام دنیا کی اصلاح کرنی ہے۔ تمام دنیا کو اللہ کے آستانہ پر جھکانا ہے۔ تمام دنیا کو اسلام اور احمدیت میں داخل کرنا ہے۔ تمام دنیا میں اللہ تعالیٰ کی بادشاہت قائم کرنا ہے مگر یہ عظیم الشان کام اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک جماعت کے تمام افراد خواہ بچے ہوں یا نوجوان ہوں یا بوڑھے ہوں ، اپنی اندرونی تنظیم کو مکمل نہیں کر لیتے اور اس لائحہ عمل کے مطابق دن رات عمل نہیں کرتے جو ان کے لئے تجویز کیا گیا ہے۔ ”

حضور کے اس ارشاد کی روشنی میں انصاراللہ کے لائحہ عمل پر پوری طرح عمل درآمد کے لئے جہاں خط و کتابت اور دورہ جات سے تنظیم کی مضبوطی کا کام لیا جاتا ہے وہاں ناظمین علاقہ و اضلاع اور زعماء اعلیٰ مجالس سے مرکزی عہدیداروں کا رابطہ بہت ہی مفید ثابت ہوا ہے۔ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے دور صدارت میں اس طرف خاص توجہ دی گئی۔ صدر محترم نے مرکز میں ناظمین اور زعماء اعلیٰ کے اجلاسات کے انعقاد کی طرف توجہ فرمائی اور اس کا باقاعدہ انتظام کیا۔ قرار پایا کہ ہر سال ناظمین علاقہ و ضلع اور زعمائے اعلیٰ کے کم از کم تین اجلاس ربوہ میں منعقد ہوں۔ چنانچہ عام طور پر ایک اجلاس سال کے شروع میں ، دوسرا سال کے وسط میں اور تیسرا مرکزی اجتماع کے موقع پر منعقد ہوتا رہا۔ اجلاسات میں ناظمین اور زعماء اعلیٰ اپنی مشکلات پیش کر کے مرکزیہ سے اس کا حل معلوم کرتے۔ اس طرح مرکز کو میدان عمل میں کام کرنے والے کارکنان کی مشکلات کا علم بھی ہو جاتا۔ ان اجلاسات کے نتیجہ میں قائدین مرکزیہ اور دیگر عہدیداران کے باہمی افہام و تفہیم سے کام کرنے کے جذبہ کو نئی جلا ملی۔ ناظمین اور زعماء اعلیٰ صدر محترم اور قائدین کی ہدایات سے ایک نئی امنگ لے کر ربوہ سے واپس جاتے اور مجالس میں بیداری کی نئی لہر پیدا کرنے کا موجب بنتے۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے اس کا بہت گہرا اثر ہوا اور تنظیم میں تروتازگی ، با ہمتی اور عزم پیدا ہوا۔ صدر محترم کی زیر نگرانی قیادت عمومی اس بات کا اہتمام کرتی ہے کہ تمام ناظمین اور زعماء اعلیٰ ان اجلاسات میں باقاعدگی سے شامل ہوں۔