مجلس انصاراللہ کا قیام

حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے 26؍ جولائی 1940ء کو خطبہ جمعہ میں اس مجلس کے قیام کا اعلان فرمایا اور اس کے صدر اور سیکرٹری مقرر فرما کر انہیں ہدایت کی کہ قادیان میں جو احمدی بھی چالیس سال سے زائد عمر کے ہیں انہیں فوراً اس تنظیم میں شامل کیا جائے ان کے لئے مجلس میں شمولیت لازمی رکھی گئی تا کہ قادیان میں رہنے والے سب افراد پوری طرح منظم ہو جائیں، البتہ بیرونی جماعتوں میں اس عمر کے افراد کی مجلس میں شمولیت کو طوعی رکھا گیا مگر یہ پابندی ضرور لگا دی گئی کہ کوئی شخص امیر یا پریزیڈنٹ یا سیکرٹری نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ کسی ذیلی تنظیم یعنی خدام الاحمدیہ یا انصاراللہ کا ممبر نہ ہو۔ اس ہدایت کا منشاء یہ تھا کہ اس تنظیم کی اہمیت بیرونی جماعتوں پر بھی واضح ہو جائے اور وہ بھی جلد سے جلد اس تنظیم کو اپنی اپنی جگہ پر مکمل کر لیں۔

بعد ازاں اگست 1940ء میں اس تنظیم میں چالیس سال سے زائد عمر کے ہر مبائع احمدی مرد کا شامل ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ حضرت مصلح موعود (نَوَّرَاللہ مَرقَدَہ ٗ) فرماتے ہیں:
’’ اگر کوئی شخص ایسا ہے جو چالیس سال سے اوپر کی عمر رکھتا ہے مگر وہ انصاراللہ کی مجلس میں شامل نہیں ہوا تو اس نے بھی ایک قومی جرم کا ارتکاب کیا ہے۔‘‘ (سبیل الرشاد جلد اوّل صفحہ نمبر 26 )

دفتر کا سنگ بنیاد

حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ 20 تبلیغ 1335 ھ / 20/ فروری 1956ء یوم ” مصلح موعود ” کی مبارک تقریب کے موقعہ پر بعد نماز عصر فضل عمر ہسپتال ربوہ کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد دفتر مجلس انصاراللہ کا سنگ بنیاد رکھنے کے لئے اس جگہ تشریف لائے جو انصاراللہ مرکزیہ کے صد ر دفتر کی تعمیر کے لئے مخصوص کی گئی تھی، حضور نے سنگ بنیاد کے طور پر اپنے دست مبارک سے پانچ اینٹیں رکھیں اور اجتماعی دُعا کروائی، اس موقعہ پر بطور شکرانہ اور اظہار خوشی حاضرین میں مٹھائی تقسیم کی گئی اور تین بکرے بطور صدقہ ذبح کیے گئے۔

انصاراللہ کا عہد

ابتدائی عہد

مجلس انصاراللہ مرکزیہ نے 30نبوت / نومبر 1323ہش / 1944 ء کو یہ فیصلہ کیا کہ انصاراللہ کو ان کی ذمہ داریاں یاد دلانے کے لئے ایک عہد مقرر ہونا چاہئے اور اس کے الفاظ وہی تجویز کئے جائیں جو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے 1319ہش /1940ء کے جوبلی کے جلسہ میں لوائے احمدیت بلند کرتے وقت فرمائے تھے چنانچہ یہ تجویز منظور کر لی گئی اور اس کے مطابق عمل ہونے لگا۔  حضرت مولوی شیر علی صاحب صدر مجلس کی طرف سے یہ ہدایت جاری کی گئی کہ جملہ مجالس انصاراللہ اپنے جلسوں اور اجتماعات میں کھڑے ہو کر اس عہد کو دہرایا کریں۔

موجودہ عہد

ابتدائی دور میں صدر مجلس کی مندرجہ بالا ہدایت پر عمل ہوتا رہا ہے لیکن مجلس انصاراللہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع منعقدہ 27/ اخاء /اکتوبر 1335ہش  1956ء کے موقعہ پر حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے ایک اور عہد تجویز فرمایا اور اسے اپنی افتتاحی تقریر سے قبل کہلوایا اور وہ یہ ہے: اشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ، لاشریک لہ، واشھد ان محمداعبدہ، و رسولہ۔”میں اقرار کرتا ہوں کہ اسلام اور احمدیت کی مضبوطی اور اشاعت اور نظام خلافت کی حفاظت کیلئے انشاء اللہ آخر دم تک جدو جہد کرتا رہوں گا اور اس کے لئے بڑی سے بڑی قربانی پیش کرنے کے لئے ہمیشہ تیار رہوں گا، نیز میں اپنی اولاد کو بھی ہمیشہ خلافت سے وابستہ رہنے کی تلقین کرتا رہوں گا ”۔

اب انصاراللہ کے اجتماعات میں یہی عہد ایک مرتبہ کھڑے ہو کر دہرایا جاتا ہے۔

شوریٰ انصاراللہ

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ آنحضرت ؐ کو اور آپؐ کی وساطت سے آپؐ کے خلفاء اور ان کے مقرر فرمودہ نمائندوں کو حکم دیتا ہے کہ شَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ یعنی معاملات کے باہمی مشاورت سے فیصلہ کئے جائیں۔یہی طریق بابرکت اور مسنون ہے۔

مندرجہ بالا ارشاد باری کی تعمیل میں 1335 ھش / 1956ء میں ہی جب انصاراللہ کا ایک نیا دور شروع ہوا اور حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نائب صدر مقرر ہوئے تو آپ نے محسوس کیا کہ مجلس کے سالانہ اجتماعات باقاعدگی سے ہونے ضروری ہیں نیز یہ کہ ان اجتماعات سے مشاورت کا فائدہ بھی اٹھایا جا سکتا ہے اس لئے تقسیم ملک کے بعد جب پہلا سالانہ اجتماع 1334ھش/ 1955ء میں منعقد ہونے لگا تو یہ بھی اعلان کیا گیا کہ اس موقعہ پر شوریٰ انصاراللہ کا بھی انعقاد ہو گا۔ چنانچہ اس تاریخ سے باقاعدگی کے ساتھ ہر سالانہ اجتماع پر حسب ضرورت ایک دن یا دو دن شوریٰ کا اجلاس بھی ضرور منعقد ہوتا ہے اور پیش آمدہ مسائل کو منتخب نمائندگان کے مشورہ سے تصفیہ کیا جاتا ہے۔

اسناد خوشنودی

شوریٰ انصاراللہ منعقدہ 1345ہش / 1966ء میں مجلس راولپنڈی نے یہ تجویز پیش کی کہ ” علاقائی مجالس” کو اعلیٰ کارکردگی کے صلہ میں خوشنودی کے سرٹیفکیٹ دیئے جایا کریں ، تا کہ سبقت لے جانے کا جذبہ ترقی کرے، شوریٰ نے بالاتفاق اس تجویز کی سفارش کی اور حضرت امیر المومنین نے اس کو منظور فرما لیا۔

اگلے سال یعنی 1346ہش / 1967ء کی شوریٰ میں اس سلسلہ میں قیادت عمومی کی جانب سے یہ تجویز پیش ہوئی کہ ” شوریٰ 1966ء کے فیصلہ کے مطابق علاقائی مجالس کو اعلیٰ کارکردگی کے صلہ میں خوشنودی کے سرٹیفکیٹ دئےے جایا کریں مگر علاقائی مجالس اتنی کم ہیں کہ مقابلہ کی اصل روح قائم نہیں رہ سکتی، مناسب ہو گا کہ علاقائی کے ساتھ ‘ضلعی’ کے لفظ کا اضافہ کر دیا جائے۔ اس طرح ایک تو ضلعی مجالس کی حوصلہ افزائی ہو گی دوسرے مقابلہ کا معیار بلند ہو گا۔” غور کے بعد شوریٰ نے سفارش کی کہ حسب سابق علاقائی مجالس میں اعلیٰ کارکردگی کے صلہ میں خوشنودی کے سرٹیفیکٹ دئےے جایا کریں اور ضلعی مجالس کا آپس میں مقابلہ کر کے اعلیٰ کارکردگی کے صلہ میں خوشنودی کے سرٹیفیکٹ بھی دئےے جایا کریں۔”

حضرت امیر المومین نے شوریٰ کے مشورہ کو قبول کرتے ہوئے اس کی منظوری صادر فرمائی، چنانچہ 1967ء سے اس کے مطابق عمل شروع ہو گیا۔
علم انعامی اور اسناد خوشنودی کے حصول کے سلسلہ میں جو ذیلی قواعد حضرت امیر المومنین نے منظور فرمائے تھے ان کے مطابق وہی مجالس اس اعزاز کی حقدار سمجھی جاتی ہیں جو تمام قیادتوں کے ساتھ عملی تعاون کریں اور کم از کم 75 فیصد نمبر ہر قیادت سے حاصل کریں۔ اعزازات یعنی علم انعامی اور اسناد خوشنودی کا فیصلہ کرنے کے لئے ہر سال صدر محترم دو یا تین قائدین پر مشتمل ایک کمیٹی نامزد فرماتے ہیں جو نائب صدر کی صدارت میں یہ فیصلہ کرتی ہے کہ کون کون سے ناظمین علاقائی / ضلع اس قابل ہیں کہ انہیں اسناد خوشنودی دئےے جانے کی سفارش کی جائے جس طرح زعماء / زعماء اعلیٰ اپنی کارکردگی کی ماہوار رپورٹ مرکز میں ارسال کرتے ہیں، اسی طرح ناظمین علاقائی / اضلاع بھی اپنی رپورٹ ارسال کرتے ہیں اور ان رپورٹس سے ان کی کارکردگی کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔

توسیع عمارت دفتر

حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے اپنی صدارت کے پہلے ہی سال دفتر مرکزیہ کی عمارت کا جائزہ لے کر محسوس فرمایا کہ جلسہ سالانہ اور دیگر اجتماعی تقاریب میں شامل ہونے والے حضرت مسیح موعود ؑ کے مہمانوں کے لئے جدید طرز کے بیوت الخلاء اور غسل خانوں کی ضرورت ہے چنانچہ صدر محترم نے پہلے ان سہولتوں کی تعمیر کا فیصلہ فرمایا۔ پچھتر ہزار روپے کی سرفِ کثیر سے سوا بیالیس فٹ لمبی اور ساڑھے چودہ فٹ چوڑی عمارت دفتر انصاراللہ مرکزیہ کے غربی گیٹ کے ساتھ تعمیر ہوئی جس میں تین غسل خانے اور پانچ بیوت الخلاء بنوائے گئے۔ نیز بیس آدمیوں کے بیک وقت وضو کرنے کی سہولت بھی مہیا کی گئی۔ تین واش بیسن معہ شیشے بھی لگوائے گئے۔

توسیع گیسٹ ہاؤس

1973ء میں سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ کے ارشاد کے ماتحت بیرون ممالک سے وفود کی شکل میں افراد جماعت جلسہ سالانہ میں شرکت کیلئے آنے لگے۔ نیز صد سالہ جوبلی کے پیش نظر بھی ان مہمانوں کے لئے مناسب رہائش کا سوال پیدا ہوا۔ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ کی ہدایت کی تعمیل میں مجلس انصاراللہ مرکزیہ نے گیسٹ ہاؤس تعمیر کیا جس کا ذکر تاریخ انصاراللہ جلد اوّل میں آ چکا ہے۔

    سیّدنا حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ نے مسندِ خلافت پر متمکن ہونے کے بعد مجلس عاملہ انصاراللہ مرکزیہ سے پہلی ملاقات (14جون 1982ء ) میں ارشاد فرمایا:

” مجلس مرکزیہ گیسٹ ہاؤس انصاراللہ میں مزید چار فیملی ٹائپ رہائشی کمرہ جات (مع غسل خانہ) جلسہ سالانہ سے قبل تیار کروائے”
اس ارشاد کی روشنی میں خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے فوری طور پر تعمیر کا کام شروع کروا دیا گیا۔

نئے بلاک گیسٹ ہاؤس کی بنیاد

نئے بلاک گیسٹ ہاؤس کی بنیاد مکرم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب قائم مقام صدر مجلس نے 12/ اگست 1982ء کو رکھی۔ (خط صدر تعمیر کمیٹی 16/ اگست 1982ء بنام حضور انور)۔ اس نئے بلاک کی تعمیر کے اخراجات کا تخمینہ تین لاکھ روپے لگایا گیا۔ یہ رقم قرض لے کر خرچ کی گئی۔ صدر محترم نے مخیر احباب کو فرداً فرداً اس کار خیر میں حصہ لینے کی تحریک فرمائی۔ اپنے خط میں صدر محترم نے یہ وضاحت بھی کی کہ جو بھی صاحب تین سو یا اس سے زائد رقم ادا کریں گے اُن کے نام دعا کی غرض سے حضور انور کی خدمت میں تحریر کئے جائیں گے اور گیسٹ ہاؤس کی عمارت پر نصب شدہ ” دعائیہ لوح” پر بھی کندہ کروائے جائیں گے۔

نئے گیسٹ ہاؤس (سرائے ناصر نمبر 3 ) کی تعمیر

صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب صدر مجلس انصاراللہ کی زیر نگرانی 13 دسمبر 2004ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الخامس کی منظوری کے بعد تعمیر کا سلسلہ شروع ہوا۔ نئی بلڈنگ کی تین منزلیں تجویز کی گئیں جس کا کل رقبہ گیارہ ہزار مربع فٹ بنا۔ جس میں 105 مہمانوں کی گنجائش موجود ہے۔ اس گیسٹ ہاؤس کی تکمیل سال 2006ء میں ہوئی جس پر 80 لاکھ سے زائد رقم خرچ ہوئی۔

 گیسٹ ہاؤس کا نام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی منظوری سے 2007ء میں سرائے ناصر رکھا گیا اور اس کے مطابق تین گیسٹ ہاؤسز کو نمبر 1۔ نمبر 2۔ نمبر 3 کا نام دیا گیا۔

توسیع مرکزی دفاتر انصاراللہ و کوارٹرز کارکنان کی تعمیر نو

صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب صدر مجلس انصاراللہ پاکستان کی زیر نگرانی دفتر انصاراللہ کی تین منزلہ بلڈنگ کی توسیع کا کام حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی منظوری سے مئی 2007 ء میں شروع کیا گیا جس میں صدر مجلس ، نائب صدر مجلس، قائدین اور شعبہ جات کیلئے دفاتر اور میٹنگ روم تعمیر کیے گئے۔ اسی طرح کوارٹرز کارکنان انصاراللہ کی تعمیر نو بھی ساتھ ہی شروع کی گئی اور تین منزلہ بلڈنگ میں 12 کوارٹرز تعمیر ہوئے۔ جس پر ایک کروڑ ستر لاکھ روپے سے زائد لاگت آئی۔

دستور اساسی کی تدوین و اشاعت

ہر تنظیم یا ادارہ کو اپنے معلنہ یا مفوضہ اغراض و مقاصد کو عمدگی سے پورا کرنے کیلئے ایک دستور العمل کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے بغیر کام بے ربط اور بے نتیجہ رہتا ہے۔ اس ضرورت کے پیش نظر جب انصاراللہ کی تنظیم حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی ہدایت پر 1940ء میں قائم کی گئی تو اس وقت کے صدر (حضرت مولوی شیر علی صاحب رضی اللہ عنہ) اور قائدین نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ کے تعاون سے کچھ اصول اور قواعد دستور کے رنگ میں مرتب کئے اور حضرت امیر المومنین سے ان کی منظوری حاصل کی۔ تقسیم ملک کے بعد کچھ عرصہ تک انہی قواعد و ضوابط کی روشنی میں کام ہوتا رہا۔ 1334ہش / 1955ء کی شوریٰ انصاراللہ میں ان پر نظر ثانی کیلئے ایک بورڈ مقرر کیا گیا۔ جس کے ممبر نائب صدر ( حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب) کے علاوہ مولوی عبدالرحیم صاحب درد، مولوی ابو العطاء صاحب، شیخ محبوب عالم خالد صاحب، مرزا عبدالحق صاحب اور ایک ایک نمائندہ لائل پور، سیالکوٹ، گجرات اور لاہور تھے۔ 1338ہش/ 1959ء کی شوریٰ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ صدر مجلس ایک کمیٹی بنا دیں جو معینہ مدت میں دستور العمل پر نظر ثانی کر ے۔ چنانچہ صدر محترم نے تین افراد پر مشتمل ایک سب کمیٹی بنا دی جو وقتاً فوقتاً اپنے اجلاس کر کے ترامیم تجویز کرتی رہی اور ان تجاویز و ترامیم پر شوریٰ میں غور ہوتا رہا۔ یہ سلسلہ دو تین سال چلتا رہا اور بالآخر 1342ہش / 1963ء میں سب کمیٹی نے اپنا کام مکمل کر لیا۔ شوریٰ میں غور کے بعد حضرت امیر المومنین کی خدمت میں اسے پیش کیا گیا اور حضور نے اس کی منظوری صادر فرمائی۔ یہ دستور العمل ، دستور اساسی کے نام سے پہلی مرتبہ 1338ہش/ 1959ء میں شائع ہوا۔ بعد میں وقتاً فوقتاً جو ترامیم ہوتی رہیں انہیں دستور اساسی کے آئندہ ایڈیشنوں میں شامل کیا جاتا رہا۔ اس وقت تک دستور اساسی کے مندرجہ ذیل ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔

طبع اوّل :            اپریل ٫1959

طبع دوم:            جولائی ٫1964

طبع سوم :            مئی 1971ء

طبع چہارم :         اکتوبر 1978ء

طبع پنجم:            مئی 1983ء

طبع ششم :         اپریل 1989ء

طبع ہفتم :                     1994 ء

طبع ہشتم :          جنوری 2000ء

طبع نہم :            فروری 2003ء

طبع دہم :           جنوری 2005ء

جب بیرونی ممالک میں مجالس قائم ہونے لگیں تو ان کو بھی دستور العمل کی ضرورت پیش آئی۔ اس لئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ پہلے اس کا انگریزی ترجمہ شائع کیا جائے۔ ترجمہ کا کام مولوی احمد حسن صاحب رجسٹرار پشاور یونیورسٹی اور پروفیسر حبیب اللہ خان ایم ایس سی نے کیا۔ نظر ثانی کے بعد 1968 ء میں شائع کر دیا گیا۔ دوسرا انگریزی ایڈیشن 1348ہش / 1969ء میں شائع کیا گیا۔

ماہنامہ انصاراللہ

تنظیم سے متعلق مختلف امور اور ہدایات کو مجالس تک پہنچانے، اراکین کی تعلیم و تربیت اور آئندہ نسلوں کی اصلاح کے پیش نظر 1338ہش / 1959ء کی شوریٰ میں یہ فیصلہ ہوا کہ مجلس مرکزیہ ایک ماہوار رسالہ شائع کرے جس میں مجالس انصاراللہ سے متعلق پروگرام ، کارکردگی کی رپورٹسا ور ضروری ہدایات شامل ہوں۔ اس رسالہ میں انتظامی اور تربیتی امور کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ملفوظات نیز حضور کی عربی تحریروں کے تراجم بھی شائع کئے جائیں اور ہر مجلس کے لئے اس کی خریداری لازمی قرار دئی جائے چنانچہ اس فیصلہ کے بموجب ماہ نبوت 1339ہش / 1960ء سے ایک ماہانہ رسالہ کی اشاعت شروع کر دی گئی اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ کی تجویز کے مطابق اس کانام ” انصاراللہ” رکھا گیا۔ اس کی ادارت کے فرائض مسعود احمد صاحب دہلوی ایڈیٹر روزنامہ الفضل کے سپرد کئے گئے اور طابع و ناشر” انصاراللہ” چوہدری محمد ابراہیم صاحب مقرر ہوئے۔

اس ماہنامہ کی اغراض و مقاصد کا ذکر کسی قدر تفصیل سے پہلے شمارہ کے ایڈیٹوریل میں کیا گیا ہے اس لئے اس کا ایک اقتباس اس جگہ درج کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔:

” حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قوت قدسی اور جذب و کشش کے طفیل آپ کے صحابہ نے اسلامی تعلیم پر کما حقہ، عمل کرتے ہوئے نصرت دین اور راہ خدا میں فدائیت کا جو نمونہ دکھایا تھا اس روح اور جذبہ کو نئی نسلوں میں منتقل کرنے اور اسلام کو ان کی زندگیوں میں نافذ کرتے ہوئے ان میں بھی حق پر نثار ہونے کا ولولہ پیدا کرنے کے لئے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جماعت میں اطفال الاحمدیہ، ناصرات الاحمدیہ ، خدام الاحمدیہ ، انصاراللہ اور لجنہ اماء اللہ کی تنظیمیں قائم فرمائی ہیں چنانچہ اسی غرض کے ماتحت اب ماہنامہ انصاراللہ جس کا پہلا شمارہ قارئین کے ہاتھوں میں ہے جاری کیا گیا ہے، یہ مجلس انصاراللہ مرکزیہ کا ترجمان ہو گا، اس میں انشاء اللہ ہم التزام کے ساتھ امام الزماں سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایسے روح پرور ملفوظات اور پُر معارف تحریرات ، نظم و نثر عربی، فارسی و اُردو شائع کرنے کا اہتمام کریں گے کہ جو جذب و تاثیر کے شاہکار کی حیثیت رکھتی ہیں، جن کے بار بار کے مطالعہ سے دلوں کے زنگ دھل کر سب کثافتیں دُور ہو جاتی ہیں اور قلوب و اذہان کی ایسی تطہیر ہوتی ہے کہ انسانوں کے سینے اور دماغ آسمانی نور سے منور ہو جاتے ہیں اور وہ دنیا میں زندگی بسر کرتے ہوئے عالم بالا کی مخلوق نظر آنے لگتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ کے صحابہ کے حالات، ان کے قبول حق کے واقعات، قربانی و ایثار اور فدائیت کے نمونے اور ان کی ایمان افروز روایات بھی التزام کے ساتھ ہدیہئ ناظرین کی جائیں گی، تا ہمیں احساس ہو کہ ہم کیسے عظیم الشان اسلاف کی اولاد ہیں، ہمارا اصل ورثہ کیا ہے اور اسے بحفاظت تمام نسلوں کے اندر منتقل کرنے کے ضمن میں ہم پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ پھر تاریخ اسلام اور تاریخ احمدیت کے چیدہ چیدہ واقعات بھی قارئین کی خدمت میں پیش کئے جائیں گے تا ایمان و یقین اور خدمت اسلام کے عزم صمیم کو ایک نئی پختگی اور نیا استحکام حاصل ہو، اسی طرح اہل علم اور اہل قلم اصحاب کے بلند پایہ علمی و تربیتی مضامین سے ہر شمارہ کو مزین کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ الغرض ہماری پوری کوشش ہو گی کہ ماہنامہ ”انصاراللہ” کا ہر شمارہ روحانی نعمتوں کا ایک خوان یغما ثابت ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ”

اس رسالہ کو بڑی محنت، توجہ اور قابلیت کے ساتھ چلایا جا رہا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ جاذب نظر حصہ وہ ہوتا ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چیدہ چیدہ ملفوظات اور روح پرور تحریرات نظم و نثر کے منتخب حصے درج کئے جاتے ہیں، یوں تو حضور ؑ کی ساری تحریریں اور ملفوظات ہی وحی خفی کا رنگ اپنے اندر رکھتے ہیں اور دائمی انوار و برکات کی حامل ہیں اور ان میں اس قدر جذب و کشش ہے کہ کوئی قاری متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا لیکن ان میں سے بھی بعض حصے ایسے ہیں جو اپنے حسن وخوبی اور تاثیرات میں بے مثال ہیں۔ اس ماہنامہ میں جب ان نوادرات پر نگاہ پڑتی ہے تو نظر وہیں اٹک کر رہ جاتی ہے اور دل چاہتا ہے کہ بار بار ان کا مطالعہ کیا جائے اور ان کی ظاہری و باطنی لذتوں سے لطف اندوز ہوا جائے اس کے علاوہ دوسرے مضامین بھی علمی اور تربیتی لحاظ سے نہایت عمدہ اور مفید ہوتے ہیں۔

پہلے سال کے شماروں پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بڑے ذی علم اور قابل افراد نے اپنے رشحات قلم سے اس رسالہ کو مزیّن کیا ہے۔ ان میں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ، حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ، چوہدری ظفر اللہ خان صاحب، مولانا جلال الدین صاحب شمس سابق مبلغ بلاد عربیہ، مولانا ابو العطاء صاحب ایڈیٹر الفرقان ، شیخ محمدا سمعیل صاحب پانی پتی مرحوم اور شیخ عبدالقادر صاحب محقق خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ رسالہ کی انہی خوبیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ نے مجلس کے سالانہ اجتماع منعقدہ 1341ھش / 1962ء کے موقعہ پر اپنے افتتاحیہ خطاب میں فرمایا:

” میں اس جگہ رسالہ ” انصاراللہ” کے متعلق بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ یہ رسالہ خدا کے فضل سے بڑی قابلیت کے ساتھ لکھا جاتا اور ترتیب دیا جاتا ہے اور اس کے اکثر مضامین بہت دلچسپ اور دماغ میں جلا پیدا کرنے اور روح کو روشنی عطا کرنے میں بڑا اثر رکھتے ہیں۔ پس انصاراللہ کو چاہئے کہ اس رسالہ کو ہر جہت سے ترقی دینے کی کوشش کریں۔ اس کی اشاعت کا حلقہ وسیع کریں اور اس کے لئے مختلف علمی موضوع پر اچھے اچھے مضامین لکھ کر بھجوائیں تا کہ اس کی افادیت میں ترقی ہو اور جماعت میں اس کے متلق دلچسپی بڑھتی چلی جائے۔”

رسالہ کی ادارت کے فرائض ایک لمبے عرصہ تک مسعود احمد صاحب دہلوی نہایت قابلیت، محنت اور توجہ سے ادا کرتے رہے، جب روزنامہ الفضل کی ادارت بھی ان کے سپرد ہو گئی تو جنوری 1976ء سے غلام باری سیف صاحب پروفیسر جامعہ احمدیہ اس کے ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ اپریل 1977ء کو اس رسالہ کی ادارت سیّد عبدالحیئ شاہ صاحب کے سپرد ہوئی۔

مرکز میں اجلاسات ناظمین کا باقاعدہ انعقادبانی مجلس انصاراللہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ نے فرمایا کہ:

” ہماری جماعت کے سپرد یہ کام کیا گیا ہے کہ ہم نے تمام دنیا کی اصلاح کرنی ہے۔ تمام دنیا کو اللہ کے آستانہ پر جھکانا ہے۔ تمام دنیا کو اسلام اور احمدیت میں داخل کرنا ہے۔ تمام دنیا میں اللہ تعالیٰ کی بادشاہت قائم کرنا ہے مگر یہ عظیم الشان کام اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک جماعت کے تمام افراد خواہ بچے ہوں یا نوجوان ہوں یا بوڑھے ہوں ، اپنی اندرونی تنظیم کو مکمل نہیں کر لیتے اور اس لائحہ عمل کے مطابق دن رات عمل نہیں کرتے جو ان کے لئے تجویز کیا گیا ہے۔ ”

حضور کے اس ارشاد کی روشنی میں انصاراللہ کے لائحہ عمل پر پوری طرح عمل درآمد کے لئے جہاں خط و کتابت اور دورہ جات سے تنظیم کی مضبوطی کا کام لیا جاتا ہے وہاں ناظمین علاقہ و اضلاع اور زعماء اعلیٰ مجالس سے مرکزی عہدیداروں کا رابطہ بہت ہی مفید ثابت ہوا ہے۔ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے دور صدارت میں اس طرف خاص توجہ دی گئی۔ صدر محترم نے مرکز میں ناظمین اور زعماء اعلیٰ کے اجلاسات کے انعقاد کی طرف توجہ فرمائی اور اس کا باقاعدہ انتظام کیا۔ قرار پایا کہ ہر سال ناظمین علاقہ و ضلع اور زعمائے اعلیٰ کے کم از کم تین اجلاس ربوہ میں منعقد ہوں۔ چنانچہ عام طور پر ایک اجلاس سال کے شروع میں ، دوسرا سال کے وسط میں اور تیسرا مرکزی اجتماع کے موقع پر منعقد ہوتا رہا۔ اجلاسات میں ناظمین اور زعماء اعلیٰ اپنی مشکلات پیش کر کے مرکزیہ سے اس کا حل معلوم کرتے۔ اس طرح مرکز کو میدان عمل میں کام کرنے والے کارکنان کی مشکلات کا علم بھی ہو جاتا۔ ان اجلاسات کے نتیجہ میں قائدین مرکزیہ اور دیگر عہدیداران کے باہمی افہام و تفہیم سے کام کرنے کے جذبہ کو نئی جلا ملی۔ ناظمین اور زعماء اعلیٰ صدر محترم اور قائدین کی ہدایات سے ایک نئی امنگ لے کر ربوہ سے واپس جاتے اور مجالس میں بیداری کی نئی لہر پیدا کرنے کا موجب بنتے۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے اس کا بہت گہرا اثر ہوا اور تنظیم میں تروتازگی ، با ہمتی اور عزم پیدا ہوا۔ صدر محترم کی زیر نگرانی قیادت عمومی اس بات کا اہتمام کرتی ہے کہ تمام ناظمین اور زعماء اعلیٰ ان اجلاسات میں باقاعدگی سے شامل ہوں۔

تعلیمی پروگرام اور امتحانات

شعبہ تعلیم مجلس انصاراللہ کا بنیادی مقصد اراکین مجلس کو علم و معرفت کے حصول کی ترغیب دلانا اور دینی تعلیم کے حصول کیلئے کوشاں رکھنا ہے۔ اس ضمن میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی درج ذیل پیش خبری کو بالخصوص سامنے رکھتے ہوئے انصار کے علمی معیار کو بلند سے بلند تر کرنے کی کوشش میں لگے رہنا اس شعبہ کا تقاضا ہے۔ حضور ؑ نے فرمایا:

” خدا تعالیٰ نے مجھے بار بار خبر دی ہے کہ وہ مجھے بہت عظمت دے گا اور میری محبت دلوں میں بٹھائے گا اور میرے سلسلہ کو تمام زمین میں پھیلائے گا اور سب فرقوں پر میرے فرقہ کو غالب کرے گا اور میرے فرقہ کے لوگ اس قدر علم اور معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کے رُو سے سب کا منہ بند کر دیں گے اور ہر ایک قوم اس چشمہ سے پانی پئے گی اور یہ سلسلہ زور سے بڑھے گا اور پھولے گا یہاں تک کہ زمین پر محیط ہو جاوے گا۔”

اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے قیادت تعلیم کے تحت مجالس مقامی میں مندرجہ ذیل مضامین کی تدریس، تعلیم اور درسوں کا اہتمام کیا جاتا رہا:
نماز با ترجمہ، قرآن کریم ناظرہ، ترجمہ و مطالب قرآن، حدیث ، کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء ، دیگر دینی کتب، عربی زبان، دیگر ملکی و غیر ملکی زبانیں سیکھنا وغیرہ۔

درس و تدریس کے اس سلسلہ کیلئے لائبریریوں کا قیام کیا جاتا رہا۔ تعلیمی کلاسز منعقد کی جاتی رہیں۔ علمی مقابلے کروائے جاتے رہے۔ ماہانہ اجلاسات اور بعض خصوصی جلسوں و اجتماعات میں تعلیمی پروگراموں پر عمل کیا جاتا رہا۔ نیز انصار کے لئے دینی نصاب مقرر کر کے امتحانات لئے جاتے رہے۔

مختلف سالوں میں انصار کے دینی مطالعہ کے لئے بطور نصاب قرآن مجید کے معین کردہ حصے، کتب احادیث مبارکہ، کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام، کتب خلفائے سلسلہ اور دینی معلومات کا بنیادی نصاب ( شائع کردہ از مجلس انصاراللہ ) مقرر کئے جاتے رہے۔

مرکزی امتحانات

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا منشاء مبارک یہ تھا کہ جماعت کے دوست دینی علوم میں دسترس حاصل کریں اور پھر ان کے امتحان بھی ہوں تا کہ معلوم ہو سکے کہ وہ صحیح رنگ میں علم حاصل کر چکے ہیں یا نہیں؟

چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:

” چونکہ یہ ضروری سمجھا گیا ہے کہ ہماری اس جماعت میں کم از کم ایک سو آدمی ایسا اہل فضل اور اہل کمال ہو کہ اس سلسلہ اور اس دعویٰ کے متعلق جو نشان اور دلائل اور براہین قویّہ قطعّیہ خدا تعالیٰ نے ظاہر فرمائے ہیں ان سب کا اس کو علم ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پس ان تمام امور کیلئے یہ قرار پایا ہے کہ اپنی جماعت کے تمام لائق اور اہل علم و زیرک اور دانشمند لوگوں کو اس طرف توجہ دی جائے کہ وہ 25 دسمبر 1901ء تک کتابوں کو دیکھ کر اس امتحان کیلئے تیار ہو جائیں۔ تعطیلوں پر قادیان پہنچ کر امور متذکرہ بالا میں تحریری امتحان دیں”۔

نیز حضور نے فرمایا:

” ہماری جماعت کو علم دین میں تفقّہ پیدا کرنا چاہئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارا مطلب یہ ہے کہ وہ آیات ِ قرآنی و احادیث نبوی اور ہمارے کلام میں تدبر کریں، قرآنی معارف و حقائق سے آگاہ ہوں۔ اگر کوئی مخالف ان پر اعتراض کرے تو وہ اُسے کافی جواب دے سکیں۔ ایک دفعہ جو امتحان لینے کی تجویز کی گئی تھی، بہت ضروری تھی۔ اس کاضرور بندو بست ہونا چاہئے” ۔